Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

الطاف حسین حالی

کلیاتِ حالی

Published 14 October 2026

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں

ہیں دور جام اول شب میں خودی سے دور

ہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں

یا رب اس اختلاط کا انجام ہو بخیر

تھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں

اک عمر چاہیئے کہ گوارا ہو نیش عشق

رکھی ہے آج لذت زخم جگر کہاں

بس ہو چکا بیاں کسل و رنج راہ کا

خط کا مرے جواب ہے اے نامہ بر کہاں

کون و مکاں سے ہے دل وحشی کنارہ گیر

اس خانماں خراب نے ڈھونڈا ہے گھر کہاں

ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور

عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں

ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی

دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

حالیؔ نشاط نغمہ و مے ڈھونڈھتے ہو اب

آئے ہو وقت صبح رہے رات بھر کہاں

About Altaf Hussain Hali (الطاف حسین حالی)

الطاف حسین حالی (1837 – 1914) شاعر، ناقد اور سوانح نگار تھے اور غالب سے قریب رہے۔ ان کی مسدس اردو کی مشہور ترین نظموں میں سے ہے۔

Read all poetry by Altaf Hussain Hali

More Urdu poetry by Altaf Hussain Hali