جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے
کلیاتِ حالی
Published 14 October 2026
جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے
قدم دشت پیما ہوا چاہتا ہے
دم گریہ کس کا تصور ہے دل میں
کہ اشک اشک دریا ہوا چاہتا ہے
خط آنے لگے شکوہ آمیز ان کے
ملاپ ان سے گویا ہوا چاہتا ہے
بہت کام لینے تھے جس دل سے ہم کو
وہ صرف تمنا ہوا چاہتا ہے
ابھی لینے پائے نہیں دم جہاں میں
اجل کا تقاضا ہوا چاہتا ہے
مجھے کل کے وعدے پہ کرتے ہیں رخصت
کوئی وعدہ پورا ہوا چاہتا ہے
فزوں تر ہے کچھ ان دنوں ذوق عصیاں
در ر��مت اب وا ہوا چاہتا ہے
قلق گر یہی ہے تو راز نہانی
کوئی دن میں رسوا ہوا چاہتا ہے
وفا شرط الفت ہے لیکن کہاں تک؟
دل اپنا بھی تجھ سا ہوا چاہتا ہے
بہت حظ اٹھاتا ہے دل تجھ سے مل کر
قلق دیکھیے کیا ہوا چاہتا ہے
غم رشک کو تلخ سمجھے تھے ہمدم
سو وہ بھی گوارا ہوا چاہتا ہے
بہت چین سے دن گزرتے ہیں حالیؔ
کوئی فتنہ برپا ہوا چاہتا ہے
About Altaf Hussain Hali (الطاف حسین حالی)
الطاف حسین حالی (1837 – 1914) شاعر، ناقد اور سوانح نگار تھے اور غالب سے قریب رہے۔ ان کی مسدس اردو کی مشہور ترین نظموں میں سے ہے۔