کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے
کلیاتِ حالی
Published 14 October 2026
کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے
گر مے نہیں دے زہر ہی کا جام بلا سے
جو کچھ ہے سو ہے اس کے تغافل کی شکایت
قاصد سے ہے تکرار نہ جھگڑا ہے صبا سے
دلالہ نے امید دلائی تو ہے لیکن
دیتے نہیں کچھ دل کو تسلی یہ دلاسے
ہے وصل تو تقدیر کے ہاتھ اے شہ خوباں
یاں ہیں تو فقط تیری محبت کے ہیں پیاسے
پیاسے ترے سرگشتہ ہیں جو راہ طلب میں
ہونٹوں کو وہ کرتے نہیں تر آب بقا سے
در گزرے دوا سے تو بھروسے پہ دعا کے
در گزریں دعا سے بھی دعا ہے یہ خدا سے
اک درد ہو بس ��ٹھ پہر دل میں کہ جس کو
تخفیف دوا سے ہو نہ تسکین دعا سے
حالیؔ دل انساں میں ہے گم دولت کونین
شرمندہ ہوں کیوں غیر کے احسان و عطا سے
جب وقت پڑے دیجیے دستک در دل پر
جھکیے فقرا سے نہ جھمکیے امرا سے
About Altaf Hussain Hali (الطاف حسین حالی)
الطاف حسین حالی (1837 – 1914) شاعر، ناقد اور سوانح نگار تھے اور غالب سے قریب رہے۔ ان کی مسدس اردو کی مشہور ترین نظموں میں سے ہے۔