Prof. Syed Mujahid Sajjad

پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا

بہادر شاہ ظفر

کلیاتِ ظفر

Published 14 October 2026

پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا

جب مرا خوں ہو چکا شمشیر پھر کھینچی تو کیا

اے مہوس جب کہ زر تیرے نصیبوں میں نہیں

تو نے محنت بھی پئے اکسیر پھر کھینچی تو کیا

گر کھنچے سینہ سے ناوک روح تو قالب سے کھینچ

اے اجل جب کھنچ گیا وہ تیر پھر کھینچی تو کیا

کھینچتا تھا پاؤں میرا پہلے ہی زنجیر سے

اے جنوں تو نے مری زنجیر پھر کھینچی تو کیا

دار ہی پر اس نے کھینچا جب سر بازار عشق

لاش بھی میری پئے تشہیر پھر کھینچی تو کیا

کھینچ اب نالہ کوئی ایسا کہ ہو اس کو اثر

تو نے اے دل آہ پر تاثیر پھر کھینچی تو کیا

چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا

دیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا

کھینچ لے اول ہی سے دل کی عنان اختیار

تو نے گر اے عاشق دلگیر پھر کھینچی تو کیا

کیا ہوا آگے اٹھائے گر ظفرؔ احسان عقل

اور اگر اب منت تدبیر پھر کھینچی تو کیا

About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)

بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔

Read all poetry by Bahadur Shah Zafar

More Urdu poetry by Bahadur Shah Zafar