Prof. Syed Mujahid Sajjad

مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا

دہان زخم سے خوں ہو کے حرف آرزو نکلا

مرا گھر تیری منزل گاہ ہو ایسے کہاں طالع

خدا جانے کدھر کا چاند آج اے ماہ رو نکلا

پھرا گر آسماں تو شوق میں تیرے ہے سرگرداں

اگر خورشید نکلا تیرا گرم جستجو نکلا

مئے عشرت طلب کرتے تھے ناحق آسماں سے ہم

وہ تھا لبریز غم اس خمکدہ سے جو سبو نکلا

ترے آتے ہی آتے کام آخر ہو گیا میرا

رہی حسرت کہ دم میرا نہ تیرے روبرو نکلا

کہیں تجھ کو نہ پایا گرچہ ہم نے اک جہاں ڈھونڈا

پھر آخر دل ہی میں دیکھا بغل ہی میں سے تو نکلا

خجل اپنے گناہوں سے ہوں میں یاں تک کہ جب رویا

تو جو آنسو مری آنکھوں سے نکلا سرخ رو نکلا

گھسے سب ناخن تدبیر اور ٹوٹی سر سوزن

مگر تھا دل میں جو کانٹا نہ ہرگز وہ کبھو نکلا

اسے عیار پایا یار سمجھے ذوقؔ ہم جس کو

جسے یاں دوست اپنا ہم نے جانا وہ عدو نکلا

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq