Prof. Syed Mujahid Sajjad

اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا

Jaun Elia

شاید

Published 12 October 2026

اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا

سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا

ساری گلی سنسان پڑی تھی باد فنا کے پہرے میں

ہجر کے دالان اور آنگن میں بس اک سایہ زندہ تھا

وہ جو کبوتر اس موکھے میں رہتے تھے کس دیس اڑے

ایک کا نام نوازندہ تھا اور اک کا بازندہ تھا

وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھی

اپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا

تھیں وہ گھر راتیں بھی کہانی وعدے اور پھر دن گننا

آنا تھا جانے والے کو جانے والا زندہ تھا

دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھی

تھا آباد محلہ سارا ہر دروازہ زندہ تھا

پیلے پتوں کو سہ پہر کی وحشت پرسا دیتی تھی

آنگن میں اک اوندھے گھڑے پر بس اک کوا زندہ تھا

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia