عجب اک طور ہے جو ہم ستم ایجاد رکھیں
Published 12 October 2026
عجب اک طور ہے جو ہم ستم ایجاد رکھیں
کہ نہ اس شخص کو بھولیں نہ اسے یاد رکھیں
عہد اس کوچۂ دل سے ہے سو اس کوچے میں
ہے کوئی اپنی جگہ ہم جسے برباد رکھیں
کیا کہیں کتنے ہی نکتے ہیں جو برتے نہ گئے
خوش بدن عشق کریں اور ہمیں استاد رکھیں
بے ستوں ایک نواحی میں ہے شہر دل کی
تیشہ انعام کریں اور کوئی فرہاد رکھیں
آشیانہ کوئی اپنا نہیں پر شوق یہ ہے
اک قفس لائیں کہیں سے کوئی صیاد رکھیں
ہم کو انفاس کی اپنے ہے عمارت کرنی
اس عمارت کی لبوں پر ترے بنیاد رکھیں
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)