Prof. Syed Mujahid Sajjad

دھوپ اٹھاتا ہوں کہ اب سر پہ کوئی بار نہیں

Jaun Elia

Published 12 October 2026

دھوپ اٹھاتا ہوں کہ اب سر پہ کوئی بار نہیں

بیچ دیوار ہے اور سایۂ دیوار نہیں

شہر کی گشت میں ہیں صبح سے سارے منصور

اب تو منصور وہی ہے جو سر دار نہیں

مت سنو مجھ سے جو آزار اٹھانے ہوں گے

اب کے آزار یہ پھیلا ہے کہ آزار نہیں

سوچتا ہوں کہ بھلا عمر کا حاصل کیا تھا

عمر بھر سانس لیے اور کوئی انبار نہیں

جن دکانوں نے لگائے تھے نگہ میں بازار

ان دکانوں کا یہ رونا ہے کہ بازار نہیں

اب وہ حالت ہے کہ تھک کر میں خدا ہو جاؤں

کوئی دل دار نہیں کوئی دل آزار نہیں

مجھ سے تم کام نہ لو کام میں لاؤ مجھ کو

کوئی تو شہر میں ایسا ہے کہ بیکار نہیں

یاد آشوب کا عالم تو وہ عالم ہے کہ اب

یاد مستوں کو تری یاد بھی درکار نہیں

وقت کو سود پہ دے اور نہ رکھ کوئی حساب

اب بھلا کیسا زیاں کوئی خریدار نہیں

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia