گفتگو جب محال کی ہوگی
Published 12 October 2026
گفتگو جب محال کی ہوگی
بات اس کی مثال کی ہوگی
زندگی ہے خیال کی اک بات
جو کسی بے خیال کی ہوگی
تھی جو خوشبو صبا کی چادر میں
وہ تمہاری ہی شال کی ہوگی
نہ سمجھ پائیں گے وہ اہل فراق
جو اذیت وصال کی ہوگی
دل پہ طاری ہے اک کمال خوشی
شاید اپنے زوال کی ہوگی
جو عطا ہو وصال جاناں کی
وہ اداسی کمال کی ہوگی
آج کہنا ہے دل کو حال اپنا
آج تو سب کے حال کی ہوگی
ہو چکا میں سو فکر یاروں کو
اب مری دیکھ بھال کی ہوگی
اب خلش کیا فراق کی اس کے
اک خلش ماہ و سال کی ہوگی
کفر و ایماں کہا گیا جس کو
بات وہ خد و خال کی ہوگی
جونؔ دل کے ختن میں آیا ہے
ہر غزل اک غزال کی ہوگی
کب بھلا آئے گی جواب کو راس
جو بھی حالت سوال کی ہوگی
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)