Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہم آندھیوں کے بن میں کسی کارواں کے تھے

Jaun Elia

یعنی

Published 12 October 2026

ہم آندھیوں کے بن میں کسی کارواں کے تھے

جانے کہاں سے آئے ہیں جانے کہاں کے تھے

اے جان داستاں تجھے آیا کبھی خیال

وہ لوگ کیا ہوئے جو تری داستاں کے تھے

ہم تیرے آستاں پہ یہ کہنے کو آئے ہیں

وہ خاک ہو گئے جو ترے آستاں کے تھے

مل کر تپاک سے نہ ہمیں کیجیے اداس

خاطر نہ کیجیے کبھی ہم بھی یہاں کے تھے

کیا پوچھتے ہو نام و نشان مسافراں

ہندوستاں میں آئے ہیں ہندوستاں کے تھے

اب خاک اڑ رہی ہے یہاں انتظار کی

اے دل یہ بام و در کسی جان جہاں کے تھے

ہم کس کو دیں بھلا در و دیوار کا حساب

یہ ہم جو ہیں زمیں کے نہ تھے آسماں کے تھے

ہم سے چھنا ہے ناف پیالہ ترا میاں

گویا ازل سے ہم صف لب تشنگاں کے تھے

ہم کو حقیقتوں نے کیا ہے خراب و خوار

ہم خواب خواب اور گمان گماں کے تھے

صد یاد یاد جونؔ وہ ہنگام دل کہ جب

ہم ایک گام کے نہ تھے پر ہفت خواں کے تھے

وہ رشتہ ہائے ذات جو برباد ہو گئے

میرے گماں کے تھے کہ تمہارے گماں کے تھے

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia