Prof. Syed Mujahid Sajjad

جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی

Jaun Elia

Published 12 October 2026

جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی

چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی

چاند نے تان لی ہے چادر ابر

اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی

سو گئی ہوگی وہ شفق اندام

سبز قندیل جل رہی ہوگی

سرخ اور سبز وادیوں کی طرف

وہ مرے ساتھ چل رہی ہوگی

چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر

اب وہ کروٹ بدل رہی ہوگی

پیڑ کی چھال سے رگڑ کھا کر

وہ تنے سے پھسل رہی ہوگی

نیلگوں جھیل ناف تک پہنے

صندلیں جسم مل رہی ہوگی

ہو کے وہ خواب عیش سے بیدار

کتنی ہی دیر شل رہی ہوگی

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia