جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے
Published 12 October 2026
جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے
بہتر یہ ہے کہ آپ مجھے بھول جائیے
ہر آن اک جدائی ہے خود اپنے آپ سے
ہر آن کا ہے زخم جو ہر آن کھائیے
تھی مشورت کی ہم کو بسانا ہے گھر نیا
دل نے کہا کہ میرے در و بام ڈھائیے
تھوکا ہے میں نے خون ہمیشہ مذاق میں
میرا مذاق آپ ہمیشہ اڑائیے
ہرگز مرے حضور کبھی آئیے نہ آپ
اور آئیے اگر تو خدا بن کے آئیے
اب کوئی بھی نہیں ہے کوئی دل محلے میں
کس کس گلی میں جائیے اور گل مچائیے
اک طور دہ صدی تھا جو بے طور ہو گیا
اب جنتری بجائیے تاریخ گائیے
اک لال قلعہ تھا جو میاں زرد پڑ گیا
اب رنگ ریز کون سے کس جا سے لائیے
شاعر ہے آپ یعنی کہ سستے لطیف گو
رشتوں کو دل سے روئیے سب کو ہنسائیے
جو حالتوں کا دور تھا وہ تو گزر گیا
دل کو جلا چکے ہیں سو اب گھر جلائیے
اب کیا فریب دیجیے اور کس کو دیجیے
اب کیا فریب کھائیے اور کس سے کھائیے
ہے یاد پر مدار میرے کاروبار کا
ہے عرض آپ مجھ کو بہت یاد آئیے
بس فائلوں کا بوجھ اٹھایا کریں جناب
مصرعہ یہ جونؔ کا ہے اسے مت اٹھائیے
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)