کبھی جب مدتوں کے بعد اس کا سامنا ہوگا
Published 12 October 2026
کبھی جب مدتوں کے بعد اس کا سامنا ہوگا
سوائے پاس آداب تکلف اور کیا ہوگا
یہاں وہ کون ہے جو انتخاب غم پہ قادر ہو
جو مل جائے وہی غم دوستوں کا مدعا ہوگا
نوید سر خوشی جب آئے گی اس وقت تک شاید
ہمیں زہر غم ہستی گوارا ہو چکا ہوگا
صلیب وقت پر میں نے پکارا تھا محبت کو
مری آواز جس نے بھی سنی ہوگی ہنسا ہوگا
ابھی اک شور ہائے و ہو سنا ہے ساربانوں نے
وہ پاگل قافلے کی ضد میں پیچھے رہ گیا ہوگا
ہمارے شوق کے آسودہ و خوش حال ہونے تک
تمہارے عارض و گیسو کا سودا ہو چکا ہوگا
نوائیں نکہتیں آسودہ چہرے دل نشیں رشتے
مگر اک شخص اس ماحول میں کیا سوچتا ہوگا
ہنسی آتی ہے مجھ کو مصلحت کے ان تقاضوں پر
کہ اب اک اجنبی بن کر اسے پہچاننا ہوگا
دلیلوں سے دوا کا کام لینا سخت مشکل ہے
مگر اس غم کی خاطر یہ ہنر بھی سیکھنا ہوگا
وہ منکر ہے تو پھر شاید ہر اک مکتوب شوق اس نے
سر انگشت حنائی سے خلاؤں میں لکھا ہوگا
ہے نصف شب وہ دیوانہ ابھی تک گھر نہیں آیا
کسی سے چاندنی راتوں کا قصہ چھڑ گیا ہوگا
صبا شکوا ہے مجھ کو ان دریچوں سے دریچوں سے
دریچوں میں تو دیمک کے سوا اب اور کیا ہوگا
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)