خون تھوکے گی زندگی کب تک
گمان
Published 12 October 2026
خون تھوکے گی زندگی کب تک
یاد آئے گی اب تری کب تک
جانے والوں سے پوچھنا یہ صبا
رہے آباد دل گلی کب تک
ہو کبھی تو شراب وصل نصیب
پیے جاؤں میں خون ہی کب تک
دل نے جو عمر بھر کمائی ہے
وہ دکھن دل سے جائے گی کب تک
جس میں تھا سوز آرزو اس کا
شب غم وہ ہوا چلی کب تک
بنی آدم کی زندگی ہے عذاب
یہ خدا کو رلائے گی کب تک
حادثہ زندگی ہے آدم کی
ساتھ دے گی بھلا خوشی کب تک
ہے جہنم جو یاد اب اس کی
وہ بہشت وجود تھی کب تک
وہ صبا اس کے بن جو آئی تھی
وہ اسے پوچھتی رہی کب تک
میرؔ جونی ذرا بتائیں تو
خود میں ٹھہریں گے آپ ہی کب تک
حال صحن وجود ٹھہرے گا
تیرا ہنگام رخصتی کب تک
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)