کیا ہوئے آشفتہ کاراں کیا ہوئے
Published 12 October 2026
کیا ہوئے آشفتہ کاراں کیا ہوئے
یاد یاراں یار یاراں کیا ہوئے
اب تو اپنوں میں سے کوئی بھی نہیں
وہ پریشاں روزگاراں کیا ہوئے
سو رہا ہے شام ہی سے شہر دل
شہر کے شب زندہ داراں کیا ہوئے
اس کی چشم نیم وا سے پوچھیو
وہ ترے مژگاں شماراں کیا ہوئے
اے بہار انتظار فصل گل
وہ گریباں تار تاراں کیا ہوئے
کیا ہوئے صورت نگاراں خواب کے
خواب کے صورت نگاراں کیا ہوئے
یاد اس کی ہو گئی ہے بے اماں
یاد کے بے یادگاراں کیا ہوئے
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)