لوح دائرہ
Published 12 October 2026
میں دائرے پر پڑا ہوا اپنے خوں کے دھبوں کو چاٹتا ہوں
کہ میرے ہونے کا سارا الزام میرے سر ہے
لبوں کی دہلیز پر مری روح کب سے فریاد کر رہی ہے
میں اپنے سینے میں جل رہا ہوں میں اپنی آنکھوں میں بجھ رہا ہوں
یہ شاہراہوں کا حادثہ ہے مگر کسی کو خبر نہیں ہے
مجھے بچا لو مجھے بچا لو
ہجوم آدم جواب دے کیا یہ کوئی صحرا ہے شہر کی رہ گزر نہیں ہے
میں پھر نہ آؤں گا میری آواز پھر نہ آئے گی
میرا اثبات پھر نہ ٹکرائے گا تمہاری بطالتوں سے
مگر مرا بال بال مقروض ہے مرے جبر آگہی کا
میں اپنی آواز کا بدن ہوں
جو چپ ہے اس کی زبان اس کے دہن میں سڑ جائے گی
میں بولوں گا اور مرا بولنا ہی میرا زیاں بھی ٹھہرے گا
میرے سینے میں جو خراشیں سلگ رہی ہیں
وہ آخر کار میری لوح مزار کا حاشیہ بنیں گی
جواب کی بستیوں کے دروازے بند ہیں اور مرا گلا خشک ہو چکا ہے
تمام انسان اپنی پرچھائیوں کو اوڑھے ہوے ہیں اور شام بہہ رہی ہے
دھند نے چوک کے بڑے برج کا مثلث نگل لیا ہے
سکوت کا زمہریر سمتوں میں گھل چکا ہے
میں ایک سنگین مجسمہ ہوں جسے بنا کر جسے خیاباں میں نصب کر کے
مجسمہ ساز اور معمار اپنا روزینہ پا چکے ہیں
میں ایک سنگیں مجسمہ ہوں
جو دھند کی طیلسان اوڑھے ہوئے ہیولوں کو تک رہا ہے
مگر سماعت کا جال اب جلد بن لیا جائے
سن لیا جائے
میرے اطراف ایک طوفان اٹھنے والا ہے
جو زمینوں کو یوں نگل لے گا جیسے یہ لوگ اپنے لوگوں کا خون بستہ نگل رہے ہیں
میں اپنے سینے میں جل رہا ہوں اپنی آنکھوں میں بجھ رہا ہوں
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)