مجھے غرض ہے مری جان غل مچانے سے
یعنی
Published 12 October 2026
مجھے غرض ہے مری جان غل مچانے سے
نہ تیرے آنے سے مطلب نہ تیرے جانے سے
عجیب ہے مری فطرت کہ آج ہی مثلاً
مجھے سکون ملا ہے ترے نہ آنے سے
اک اجتہاد کا پہلو ضرور ہے تجھ میں
خوشی ہوئی ترے نا وقت مسکرانے سے
یہ میرا جوش محبت فقط عبارت ہے
تمہاری چمپئی رانوں کو نوچ کھانے سے
مہذب آدمی پتلون کے بٹن تو لگا
کہ ارتقا ہے عبارت بٹن لگانے سے
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)