Prof. Syed Mujahid Sajjad

راتیں سچی ہیں دن جھوٹے ہیں

Jaun Elia

Published 12 October 2026

چاہے تم میری بینائی کھرچ ڈالو پھر بھی اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا

ان کی لذت اور اذیت سے میں اپنا کوئی عہد نہیں توڑوں گا

تیز نظر نا بیناؤں کی آبادی میں

کیا میں اپنے دھیان کی یہ پونجی بھی گنوا دوں

ہاں میرے خوابوں کو تمہاری صبحوں کی سرد اور سایہ گوں تعبیروں سے نفرت ہے

ان صبحوں نے شام کے ہاتھوں اب تک جتنے سورج بیچے

وہ سب اک برفانی بھاپ کی چمکیلی اور چکر کھاتی گولائی تھے

سو میرے خوابوں کی راتیں جلتی اور دہکتی راتیں

ایسی یخ بستہ تعبیروں کے ہر دن سے اچھی ہیں اور سچی بھی ہیں

جس میں دھندلا چکر کھاتا چمکیلا پن چھ اطراف کا روگ بنا ہے

میرے اندھیرے بھی سچے ہیں

اور تمہارے ''روگ اجالے'' بھی جھوٹے ہیں

راتیں سچی ہیں دن جھوٹے

جب تک دن جھوٹے ہیں جب تک

راتیں سہنا اور اپنے خوابوں میں رہنا

خوابوں کو بہکانے والے دن کے اجالوں سے اچھا ہے

ہاں میں بہکاووں کی دھند نہیں اوڑھوں گا

چاہے تم میری بینائی کھرچ ڈالو میں پھر بھی اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا

اپنا عہد نہیں توڑوں گا

یہی تو بس میرا سب کچھ ہے

ماہ و سال کے غارت گر سے میری ٹھنی ہے

میری جان پر آن بنی ہے

چاہے کچھ ہو میرے آخری سانس تلک اب چاہے کچھ ہو

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia