شام تھی اور برگ و گل شل تھے مگر صبا بھی تھی
گمان
Published 12 October 2026
شام تھی اور برگ و گل شل تھے مگر صبا بھی تھی
ایک عجیب سکوت تھا ایک عجب صدا بھی تھی
ایک ملال کا سا حال محو تھا اپنے حال میں
رقص و نوا تھے بے طرف محفل شب بپا بھی تھی
سامعۂ صدائے جاں بے سروکار تھا کہ تھا
ایک گماں کی داستاں بر لب نیم وا بھی تھی
کیا مہ و سال ماجرا ایک پلک تھی جو میاں
بات کی ابتدا بھی تھی بات کی انتہا بھی تھی
ایک سرود روشنی نیمۂ شب کا خواب تھا
ایک خموش تیرگی سانحہ آشنا بھی تھی
دل ترا پیشۂ گلہ کام خراب کر گیا
ورنہ تو ایک رنج کی حالت بے گلہ بھی تھی
دل کے معاملے جو تھے ان میں سے ایک یہ بھی ہے
اک ہوس تھی دل میں جو دل سے گریز پا بھی تھی
بال و پر خیال کو اب نہیں سمت و سو نصیب
پہلے تھی اک عجب فضا اور جو پر فضا بھی تھی
خشک ہے چشمہ سار جاں زرد ہے سبزہ زار دل
اب تو یہ سوچیے کہ یاں پہلے کبھی ہوا بھی تھی
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)