شمشیر میری، میری سپر کس کے پاس ہے
یعنی
Published 12 October 2026
شمشیر میری، میری سپر کس کے پاس ہے
دو میرا خود پر مرا سر کس کے پاس ہے
درپیش ایک کام ہے ہمت کا ساتھیو
کسنا ہے مجھ کو میری کمر کس کے پاس ہے
طاری ہو مجھ پہ کون سی حالت مجھے بتاؤ
میرا حساب نفع و ضرر کس کے پاس ہے
اے اہل شہر میں تو دعا گوئے شہر ہوں
لب پر مرے دعا ہے اثر کس کے پاس ہے
داد و ستد کے شہر میں ہونے کو آئی شام
خواہش ہے میرے پاس خبر کس کے پاس ہے
پر حال ہوں پہ صورت احوال کچھ نہیں
حیرت ہے میرے پاس نظر کس کے پاس ہے
اک آفتاب ہے مری جیب نگاہ میں
پہنائی نمود سحر کس کے پاس ہے
قصہ کشور کا نہیں کوشک کا ہے کہ ہے
دروازہ سب کے پاس ہے گھر کس کے پاس ہے
مہمان قصر ہیں ہمیں کچھ رمز چاہئیں
یہ پوچھ کے بتاؤ کھنڈر کس کے پاس ہے
اتھلا سا ناف پیالہ ہماری نہیں تلاش
اے لڑکیو! بتاؤ بھنور کس کے پاس ہے
ناخن بڑھے ہوئے ہیں مرے مجھ سے کر حذر
یہ جا کے دیکھ نیل کٹر کس کے پاس ہے
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)