Prof. Syed Mujahid Sajjad

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو

Jaun Elia

Published 12 October 2026

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو

جو ملے خواب میں وہ دولت ہو

میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں

مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو

تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو

اور اتنی ہی بے مروت ہو

تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں

یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو

تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی

کیسے انگڑائی سے شکایت ہو

کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں

تم مری زندگی کی عادت ہو

کس لئے دیکھتی ہو آئینہ

تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو

داستاں ختم ہونے والی ہے

تم مری آخری محبت ہو

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia