Prof. Syed Mujahid Sajjad

تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے

Jaun Elia

شاید

Published 12 October 2026

تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے

تیرے ساتھ تری یاد آئی کیا تو سچ مچ آئی ہے

شاید وہ دن پہلا دن تھا پلکیں بوجھل ہونے کا

مجھ کو دیکھتے ہی جب اس کی انگڑائی شرمائی ہے

اس دن پہلی بار ہوا تھا مجھ کو رفاقت کا احساس

جب اس کے ملبوس کی خوشبو گھر پہنچانے آئی ہے

حسن سے عرض شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے

ہم نے عرض شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے

ہم کو اور تو کچھ نہیں سوجھا البتہ اس کے دل میں

سوز رقابت پیدا کر کے اس کی نیند اڑائی ہے

ہم دونوں مل کر بھی دلوں کی تنہائی میں بھٹکیں گے

پاگل کچھ تو سوچ یہ تو نے کیسی شکل بنائی ہے

عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے

کیاری میں پانی ٹھہرا ہے دیواروں پر کائی ہے

حسن کے جانے کتنے چہرے حسن کے جانے کتنے نام

عشق کا پیشہ حسن پرستی عشق بڑا ہرجائی ہے

آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا

جوں ہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے

ایک تو اتنا حبس ہے پھر میں سانسیں روکے بیٹھا ہوں

ویرانی نے جھاڑو دے کے گھر میں دھول اڑائی ہے

About Jaun Elia (جون ایلیا)

جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔

Read all poetry by Jaun Elia

More Urdu poetry by Jaun Elia