یہ جو سنا اک دن وہ حویلی یکسر بے آثار گری
یعنی
Published 12 October 2026
یہ جو سنا اک دن وہ حویلی یکسر بے آثار گری
ہم جب بھی سائے میں بیٹھے دل پر اک دیوار گری
جوں ہی مڑ کر دیکھا میں نے بیچ اٹھی تھی اک دیوار
بس یوں سمجھو میرے اوپر بجلی سی اک بار گری
دھار پہ باڑ رکھی جائے اور ہم اس کے گھائل ٹھہریں
میں نے دیکھا اور نظروں سے ان پلکوں کی دھار گری
گرنے والی ان تعمیروں میں بھی ایک سلیقہ تھا
تم اینٹوں کی پوچھ رہے ہو مٹی تک ہموار گری
بے داری کے بستر پر میں ان کے خواب سجاتا ہوں
نیند بھی جن کی ٹاٹ کے اوپر خوابوں سے نادار گری
خوب ہی تھی وہ قوم شہیداں یعنی سب بے زخم و خراش
میں بھی اس صف میں تھا شامل وہ صف جو بے وار گری
ہر لمحہ گھمسان کا رن ہے کون اپنے اوسان میں ہے
کون ہے یہ؟ اچھا تو میں ہوں لاش تو ہاں اک یار گری
About Jaun Elia (جون ایلیا)
جون ایلیا (1931–2002) اردو کے منفرد شاعر، فلسفی اور عالم تھے۔ وہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان آ گئے۔ شاید، یعنی، گمان اور لیکن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا کلام اپنی نرالی شوخی اور گہرے فلسفیانہ انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Jaun Elia
- عمر گزرے گی امتحان میں کیا (Ghazal)
- نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم (Ghazal)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی (Ghazal)
- کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے (Ghazal)