شب زفاف ابو لہب تھی مگر خدایا وہ کیسی شب تھی
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
شب زفاف ابو لہب تھی مگر خدایا وہ کیسی شب تھی
ابو لہب کی دلہن جب آئی تو سر پہ ایندھن گلے میں
سانپوں کے ہار لائی نہ اس کو مشاطگی سے مطلب
نہ مانگ غازہ نہ رنگ روغن گلے میں سانپوں
کے ہار اس کے تو سر پہ ایندھن
خدایا کیسی شب زفاف ابو لہب تھی
یہ دیکھتے ہی ہجوم بپھرا بھڑک اٹھے یوں غضب
کہ شعلے کہ جیسے ننگے بدن پہ جابر کے تازیانے
جوان لڑکوں کی تالیاں تھی نہ صحن میں شوخ
لڑکیوں کے تھرکتے پاؤں تھرک رہے تھے،
نہ نغمہ باقی نہ شادیانے
ابو لہب نے یہ رنگ دیکھا لگام تھامی لگائی
مہمیز ابو لہب کی خبر نہ آئی
ابو لہب کی خبر جو آئی تو سالہا سال کا زمانہ
غبار بن کر بکھر چکا تھا
ابو لہب اجنبی زمینوں کے لعل و گوہر سمیٹ کر
پھر وطن کو لوٹا ہزار طرار و تیز آنکھیں پرانے
غرفوں سے جھانک اٹھیں ہجوم پیر و جواں کا
گہرا ہجوم اپنے گھروں سے نکلا ابو لہب کے جلوس
کو دیکھنے کو لپکا
ابو لہب اک شب زفاف ابو لہب کا جلا
پھپھولا خیال کی ریت کا بگولا وہ عشق برباد
کا ہیولی ہجوم میں سے پکار اٹھی ابو لہب
تو وہی ہے جس کی دلہن جب آئی تو سر پہ ایندھن
گلے میں سانپوں کے ہار لائی
ابو لہب ایک لمحہ ٹھٹھکا لگام تھامی لگائی
مہمیز ابو لہب کی خبر نہ آئی
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)