شہر کے شہر کا افسانہ وہ خوش فہم مگر سادہ مسافر
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
شہر کے شہر کا افسانہ وہ خوش فہم مگر سادہ مسافر
کہ جنہیں عشق کی للکار کے رہزن نے کہا: آؤ!
دکھلائیں تمہیں ایک در بستہ کے اسرار کا خواب
شہر کے شہر کا افسانہ وہ دل جن کے بیاباں میں
کسی قطرۂ گم گشتہ کے ناگاہ لرزنے کی صدا نے یہ کہا:
''آؤ دکھلائیں تمہیں صبح کے ہونٹوں پہ تبسم کا سراب!''
شہر کے شہر کا افسانہ وہی آرزوئے خستہ کے لنگڑاتے ہوئے پیر
کہ ہیں آج بھی افسانے کی دزدیدہ و ژولیدہ لکیروں پہ رواں
ان اسیروں کی طرح جن کے رگ و ریشہ کی زنجیر کی جھنکار
بھی تھم جائے تو کہہ اٹھیں کہاں
''اب کہاں جائیں گے ہم
جائیں اب تازہ و نادیدہ نگاہوں کے زمستاں میں کہاں؟''
ان اسیروں کی طرح جن کے لیے وقت کی بے صرفہ سلاخیں
نہ کبھی سرد نہ گرم اور نہ کبھی سخت نہ نرم
نہ رہائی کی پذیرائی نہ اسیری ہی کی شرم
شہر کے شہر کا افسانہ وہ روحیں جو سر پل کے سوا
اور کہیں وصل کی جویا ہی نہیں
پل سے جنہیں پار اترنے کی تمنا ہی نہیں
اس کا یارا ہی نہیں!
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)