شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ہوئے
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ہوئے
پا شکستہ سر بریدہ خواب
جن سے شہر والے بے خبر!
گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روز و شب
کہ ان کو جمع کر لوں
دل کی بھٹی میں تپاؤں
جس سے چھٹ جائے پرانا میل
ان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیں
چمک اٹھیں لب و رخسار و گردن
جیسے نو آراستہ دولہوں کے دل کی حسرتیں
پھر سے ان خوابوں کو سمت رہ ملے!
''خواب لے لو خواب۔۔۔۔''
صبح ہوتے چوک میں جا کر لگاتا ہوں صدا
خواب اصلی ہیں کہ نقلی؟''
یوں پرکھتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑھ کر
خواب داں کوئی نہ ہو!
خواب گر میں بھی نہیں
صورت گر ثانی ہوں بس
ہاں مگر میری معیشت کا سہارا خواب ہیں!
شام ہو جاتی ہے
میں پھر سے لگاتا ہوں صدا
مفت لے لو مفت، یہ سونے کے خواب،،
''مفت'' سن کر اور ڈر جاتے ہیں لوگ
اور چپکے سے سرک جاتے ہیں لوگ
''دیکھنا یہ ''مفت'' کہتا ہے
کوئی دھوکا نہ ہو؟
ایسا کوئی شعبدہ پنہاں نہ ہو؟
گھر پہنچ کر ٹوٹ جائیں
یا پگھل جائیں یہ خواب؟
بھک سے اڑ جائیں کہیں
یا ہم پہ کوئی سحر کر ڈالیں یہ خواب
جی نہیں کس کام کے؟
ایسے کباڑی کے یہ خواب
ایسے نا بینا کباڑی کے یہ خواب!''
رات ہو جاتی ہے
خوابوں کے پلندے سر پہ رکھ کر
منہ بسورے لوٹتا ہوں
رات بھر پھر بڑبڑاتا ہوں
''یہ لے لو خواب۔۔۔۔''
''اور لے لو مجھ سے ان کے دام بھی
خواب لے لو، خواب
میرے خواب
خواب میرے خواب
خواب
ان کے دام بھی''
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)