خود فہمی کا ارماں ہے تاریکی میں روپوش
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
خود فہمی کا ارماں ہے تاریکی میں روپوش
تاریکی خود بے چشم و گوش!
اک بے پایاں عجلت راہوں کی الوند!
سینوں میں دل یوں جیسے چشم آز صیاد
تازہ خوں کے پیاسے افرنگی مردان راد
خود یو آہن کے مانند
دریا کے دو ساحل ہیں اور دونوں ہی ناپید
شر ہے دست سیہ اور خیر کا حامل روئے سفید
اک بار مژگاں اک لب خند
سب پیمانے بے صرفہ جب سیم و زر میزان
جب ذوق عمل کا سر چشمہ بے معنی ہذیان
جب دہشت ہر لمحہ جاں کند
یہ سب افقی انسان ہیں یہ ان کے سماوی شہر
کیا پھر ان کی کمیں میں وقت کے طوفاں کی اک لہر؟
کیا سب ویرانی کے دل بند
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)