بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں
افکار کا ہجوم ہے میرے دماغ میں
چھایا ہوا ہے چار طرف باغ میں سکوت
تنہائیوں کی گود میں لیٹا ہوا ہوں میں
اشجار بار بار ڈراتے ہیں بن کے بھوت
جب دیکھتا ہوں ان کی طرف کانپتا ہوں میں
بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں
لارنس باغ کیف و لطافت کے خلد زار
وہ موسم نشاط وہ ایام نو بہار
بھولے ہوئے مناظر رنگیں بہار کے
افکار بن کے روح میں میری اتر گئے
وہ مست گیت موسم عشرت فشار کے
گہرائیوں کو دل کی غم آباد کر گئے
لارنس باغ کیف و لطافت کے خلد زار
ہے آسماں پہ کالی گھٹاؤں کا اژدہام
ہونے لگی ہے وقت سے پہلے ہی آج شام
دنیا کی آنکھ نیند سے جس وقت جھک گئی
جب کائنات کھو گئی اسرار خواب میں
سینے میں جوئے اشک ہے میرے رکی ہوئی
جا کر اسے بہاؤں گا کنج گلاب میں
ہے آسماں پہ کالی گھٹاؤں کا اژدہام
افکار کا ہجوم ہے میرے دماغ میں
بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)