Prof. Syed Mujahid Sajjad

کیسے میں بھی بھول جاؤں

ن م راشد

کلیاتِ راشد

Published 14 October 2026

کیسے میں بھی بھول جاؤں

زندگی سے اپنا ربط اولیں

ایک دور افتادہ قریے کے قریب

اک جنوں افروز شام

نہر پر شیشم کے اشجار بلند

چاندنی میں ان کی شاخوں کے تلے

تیرے پیمان محبت کا وہ اظہار طویل

روح کا اظہار تھے بوسے مرے

جیسے میری شاعری میرا عمل

روح کا اظہار کیسے بھول جاؤں

کیسے کر ڈالوں میں جسم و روح کو

آج بے آہنگ و نور

تو کہ تھی اس وقت گم نامی کے غاروں میں نہاں

میرے ہونٹوں ہی نے دی تجھ کو نجات

اپنی راہوں پر اٹھا لایا تجھے

زندۂ جاوید کر ڈالا تجھے

جیسے کوئی بت تراش

اپنے بت کو زندگی کے نور سے تاباں کرے

اس کو برگ و بار دینے کے لیے

اپنے جسم و روح کو عریاں کرے

میرے بوسے روح کا اظہار تھے

روح جو اظہار ہی سے زندہ و تابندہ ہے

ہے اسی اظہار سے حاصل مجھے قرب حیات

روح کا اظہار کیسے بھول جاؤں

About N. M. Rashid (ن م راشد)

ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by N. M. Rashid

More Urdu poetry by N. M. Rashid