کیسے میں بھی بھول جاؤں
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
کیسے میں بھی بھول جاؤں
زندگی سے اپنا ربط اولیں
ایک دور افتادہ قریے کے قریب
اک جنوں افروز شام
نہر پر شیشم کے اشجار بلند
چاندنی میں ان کی شاخوں کے تلے
تیرے پیمان محبت کا وہ اظہار طویل
روح کا اظہار تھے بوسے مرے
جیسے میری شاعری میرا عمل
روح کا اظہار کیسے بھول جاؤں
کیسے کر ڈالوں میں جسم و روح کو
آج بے آہنگ و نور
تو کہ تھی اس وقت گم نامی کے غاروں میں نہاں
میرے ہونٹوں ہی نے دی تجھ کو نجات
اپنی راہوں پر اٹھا لایا تجھے
زندۂ جاوید کر ڈالا تجھے
جیسے کوئی بت تراش
اپنے بت کو زندگی کے نور سے تاباں کرے
اس کو برگ و بار دینے کے لیے
اپنے جسم و روح کو عریاں کرے
میرے بوسے روح کا اظہار تھے
روح جو اظہار ہی سے زندہ و تابندہ ہے
ہے اسی اظہار سے حاصل مجھے قرب حیات
روح کا اظہار کیسے بھول جاؤں
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)