Prof. Syed Mujahid Sajjad

میر ہو مرزا ہو میرا جی ہو

ن م راشد

کلیاتِ راشد

Published 14 October 2026

میر ہو مرزا ہو میرا جی ہو

نارسا ہاتھ کی نمناکی ہے

ایک ہی چیخ ہے فرقت کے بیابانوں میں

ایک ہی طول الم ناکی ہے

ایک ہی روح جو بے حال ہے زندانوں میں

ایک ہی قید تمنا کی ہے

عہد رفتہ کے بہت خواب تمنا میں ہیں

اور کچھ واہمے آئندہ کے

پھر بھی اندیشہ وہ آئینہ ہے جس میں گویا

میر ہو مرزا ہو میرا جی ہو

کچھ نہیں دیکھتے ہیں

محور عشق کی خود مست حقیقت کے سوا

اپنے ہی بیم و رجا اپنی ہی صورت کے سوا

اپنے رنگ اپنے بدن اپنے ہی قامت کے سوا

اپنی تنہائی جانکاہ کی دہشت کے سوا

دل خراشی و جگر چاکی و خوں افشانی

ہوں تو ناکام پہ ہوتے ہیں مجھے کام بہت

مدعا محو تماشائے شکست دل ہے

آئنہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے

رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہ تھا

چاند کے آنے پہ سائے آئے

سائے ہلتے ہوئے، گھلتے ہوئے کچھ بھوت سے بن جاتے ہیں

میر ہو مرزا ہو میرا جی ہو

اپنی ہی ذات کی غربال میں چھن جاتے ہیں

دل خراشیدہ ہو خوں دادہ رہے

آئنہ خانے کے ریزوں پہ ہم استادہ رہے

چاند کے آنے پہ سائے بہت آئے بھی

ہم بہت سایوں سے گھبرائے بھی

میر ہو مرزا ہو میرا جی ہو

آج جاں اک نئے ہنگامے میں در آئی ہے

ماہ بے سایہ کی دارائی ہے

یاد وہ عشرت خوں ناب کسے

فرصت خواب کسے

About N. M. Rashid (ن م راشد)

ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by N. M. Rashid

More Urdu poetry by N. M. Rashid