کوئی مجھ کو دور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دو
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
کوئی مجھ کو دور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دو
کوئی یہ سجھا دو کہ حاصل ہے کیا ہستئ رائیگاں سے
کہ غیروں کی تہذیب کی استواری کی خاطر
عبث بن رہا ہے ہمارا لہو مومیائی
میں اس قوم کا فرد ہوں جس کے حصے میں محنت ہی محنت ہے نان شبینہ نہیں ہے
اور اس پر بھی یہ قوم دل شاد ہے شوکت باستاں سے
اور اب بھی ہے امید فردا کسی ساحر بے نشاں سے
مری جاں شب و روز کی اس مشقت سے تنگ آ گیا ہوں
میں اس خشت کوبی سے اکتا گیا ہوں
کہاں ہیں وہ دنیا کی تزئین کی آرزوئیں
جنہوں نے تجھے مجھ سے وابستہ تر کر دیا تھا
تری چھاتیوں کی جوئے شیر کیوں زہر کا اک سمندر نہ بن جائے
جسے پی کے سو جائے ننھی سی جاں
جو اک چھپکلی بن کے چمٹی ہوئی ہے تیرے سینۂ مہرباں سے
جو واقف نہیں تیرے درد نہاں سے
اسے بھی تو ذلت کی پابندگی کے لیے آلۂ کار بننا پڑے گا
بہت ہے کہ ہم اپنے آبا کی آسودہ کوشی کی پاداش میں
آج بے دست و پا ہیں
اس آئندہ نسلوں کی زنجیر پا کو تو ہم توڑ ڈالیں
مگر اے مری تیرہ راتوں کی ساتھی
یہ شہنائیاں سن رہی ہو
یہ شاید کسی نے مسرت کی پہلی کرن دیکھ پائی
نہیں اس دریچے کے باہر تو جھانکو
خدا کا جنازہ لیے جا رہے ہیں فرشتے
اسی ساحر بے نشاں کا
جو مغرب کا آقا تھا مشرق کا آقا نہیں تھا
یہ انسان کی برتری کے نئے دور کے شادیانے ہیں سن لو
یہی ہے نئے دور کا پرتو اولیں بھی
اٹھو اور ہم بھی زمانے کی تازہ ولادت کے اس جشن میں
مل کے دھومیں مچائیں
شعاعوں کے طوفان میں بے محابا نہائیں
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)