سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں
سبا ویراں، سبا آسیب کا مسکن
سبا آلام کا انبار بے پایاں!
گیاہ و سبزہ و گل سے جہاں خالی
ہوائیں تشنۂ باراں،
طیور اس دشت کے منقار زیر پر
تو سرمہ ور گلو انساں
سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں!
سلیماں سر بہ زانو ترش رو، غمگیں، پریشاں مو
جہانگیری، جہانبانی، فقط طرارۂ آہو،
محبت شعلۂ پراں، ہوس بوئے گل بے بو
ز راز دہر کمتر گو!
سبا ویراں کہ اب تک اس زمیں پر ہیں
کسی عیار کے غارت گروں کے نقش پا باقی
سبا باقی، نہ مہروئے سبا باقی!
سلیماں سر بہ زانو
اب کہاں سے قاصد فرخندہ پے آئے؟
کہاں سے، کس سبو سے کاسۂ پیری میں مے آئے؟
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)