مرا دل گرو مری جاں گرو
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
مرا دل گرو مری جاں گرو
چلا آ کہ ہے مرا در کھلا
تو مرا نصیب ہے راہرو
یہ ہوا یہ برق یہ رعد و ابر یہ تیرگی
رہ انتظار کی نارسی
مرے جان و دل پہ ہیں لو بتو
مرے میہماں مرے راہرو
اے گریز پا تو سراب دشت خلا نہ بن
وہ نوا نہ بن جو فریب راہ گزار ہو
وہ فسون ارض و سما نہ بن
جسے دل گرفتوں سے عار ہو
جو تجھے بلاتی ہے پے بہ پے
وہ صدا جلاجل جاں کی ہے
وہ صدا مرور زماں کی ہے
کسے اس صدا سے فرار ہو
مرا دل گرو مری جاں گرو
تری کن مکن تری رو مرو
مجھے بار جاں
کہ میں حرف جس کا بیاں ہے تو
میں وہ جسم جس کی رواں ہے تو
تو کلام ہے میں تری زباں
تو وہ شمع ہے کہ میں جس کی لو
کسی نقش کار کا اک نفس
کئی صورتیں جو سدا سے تشنۂ رنگ تھیں
ہوئیں وصل معنی سے بارور
کسی بت تراش کی اک نگہ
کئی سنگ اذیت یاس و مرگ
سے بچ گئے
ہوئے سمت راہ سے با خبر
چلا آ کہ میری ندا میں بھی
وہی رویت ازلی کہ ہے
جسے یاد غایت رنگ و بو
جسے یاد راز مے و سبو
جسے یاد وعدۂ تار و پو
چلا آ کہ میری ندا میں بھی
اسی کشف ذات کی آرزو
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)