گوشۂ زنجیر میں
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
گوشۂ زنجیر میں
اک نئی جنبش ہویدا ہو چلی
سنگ خارا ہی سہی خار مغیلاں ہی سہی
دشمن جاں دشمن جاں ہی سہی
دوست سے دست و گریباں ہی سہی
یہ بھی تو شبنم نہیں
یہ بھی تو مخمل نہیں دیبا نہیں ریشم نہیں
ہر جگہ پھر سینۂ نخچیر میں
اک نیا ارماں نئی امید پیدا ہو چلی
حجلۂ سیمیں سے تو بھی پیلۂ ریشم نکل
وہ حسیں اور دور افتادہ فرنگی عورتیں
تو نے جن کے حسن روز افزوں کی زینت کے لئے
سالہا بے دست و پا ہو کر بنے ہیں تار ہائے سیم و زر
ان کے مردوں کے لئے بھی آج اک سنگین جال
ہو سکے تو اپنے پیکر سے نکال
شکر ہے دنبالۂ زنجیر میں
اک نئی جنبش نئی لرزش ہویدا ہو چلی
کوہساروں ریگ زاروں سے صدا آنے لگی
ظلم پروردہ غلامو بھاگ جاؤ
پردۂ شبگیر میں اپنے سلاسل توڑ کر
چار سو چھائے ہوئے ظلمات کو اب چیر جاؤ
اور اس ہنگام باد آور کو
حیلۂ شب خوں بناؤ
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)