Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہے دنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہے

نذیر اکبر آبادی

کلیاتِ نذیر

Published 14 October 2026

ہے دنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہے

جو مہنگوں کو یہ مہنگی ہے اور سستوں کو یہ سستی ہے

یاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہے

گر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے

اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے

جو اور کسی کا مان رکھے تو اس کو بھی ارمان ملے

جو پان کھلا دے پان ملے جو روٹی دے تو نان ملے

نقصان کرے نقصان ملے احسان کرے احسان ملے

جو جیسا جس کے ساتھ کرے پھر ویسا اس کو آن ملے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے

اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے

جو اور کسی کی جاں بخشے تو اس کی بھی حق جان رکھے

جو اور کسی کی آن رکھے تو اس کی بھی حق آن رکھے

جو یاں کا رہنے والا ہے یہ دل میں اپنے جان رکھے

یہ ترت پھرت کا نقشہ ہے اس نقشے کو پہچان رکھے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے

اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے

جو پار اتارے اوروں کو اس کی بھی پار اترنی ہے

جو غرق کرے پھر اس کو بھی ڈبکوں ڈبکوں کرنی ہے

شمشیر تبر بندوق سناں اور نشتر تیر نہرنی ہے

یاں جیسی جیسی کرنی ہے پھر ویسی ویسی بھرنی ہے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے

اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے

جو اوپر اونچا بول کرے تو اس کا بول بھی بالا ہے

اور دے پٹکے تو اس کو بھی کوئی اور پٹکنے والا ہے

بے ظلم و خطا جس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہے

اس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندی نالا ہے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے

اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے

جو مصری اور کے منہ میں دے پھر وہ بھی شکر کھاتا ہے

جو اور تئیں اب ٹکر دے پھر وہ بھی ٹکر کھاتا ہے

جو اور کو ڈالے چکر میں پھر وہ بھی چکر کھاتا ہے

جو اور کو ٹھوکر مار چلے پھر وہ بھی ٹھوکر کھاتا ہے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے

اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے

جو اور کسی کو ناحق میں کوئی جھوٹی بات لگاتا ہے

اور کوئی غریب اور بیچارہ حق نا حق میں لٹ جاتا ہے

وہ آپ بھی لوٹا جاتا ہے اور لاٹھی پاٹھی کھاتا ہے

جو جیسا جیسا کرتا ہے پھر ویسا ویسا پاتا ہے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے

اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے

جو اور کی پگڑی لے بھاگے اس کا بھی اور اچکا ہے

جو اور پہ چوکی بٹھلاوے اس پر بھی دھونس دھڑکا ہے

یاں پشتی میں تو پشتی ہے اور دھکے میں یاں دھکا ہے

کیا زور مزے کا جمگھٹ ہے کیا زور یہ بھیڑ بھڑکا ہے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے

اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے

ہے کھٹکا اس کے ہاتھ لگا جو اور کسی کو دے کھٹکا

اور غیب سے جھٹکا کھاتا ہے جو اور کسی کے دے جھٹکا

چیرے کے بیچ میں چیرا ہے اور پٹکے بیچ جو ہے پٹکا

کیا کہیے اور نظیرؔ آگے ہے زور تماشا جھٹ پٹکا

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے

اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے

About Nazeer Akbarabadi (نذیر اکبر آبادی)

نذیر اکبر آبادی (1735 – 1830) اردو کے عوامی شاعر تھے جو آگرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عوام کی بولی میں لکھی گئی ان کی نظمیں بنجارہ نامہ، ہولی، عید اور دیوالی کے موضوعات پر مشہور ہیں۔

Read all poetry by Nazeer Akbarabadi

More Urdu poetry by Nazeer Akbarabadi