Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کا

نذیر اکبر آبادی

کلیاتِ نذیر

Published 14 October 2026

ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کا

ہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کا

سبھی کے دل میں سماں بھا گیا دوالی کا

کسی کے دل کو مزا خوش لگا دوالی کا

عجب بہار کا ہے دن بنا دوالی کا

جہاں میں یارو عجب طرح کا ہے یہ تیوہار

کسی نے نقد لیا اور کوئی کرے ہے ادھار

کھلونے کھیلوں بتاشوں کا گرم ہے بازار

ہر اک دکاں میں چراغوں کی ہو رہی ہے بہار

سبھوں کو فکر ہے اب جا بجا دوالی کا

مٹھائیوں کی دکانیں لگا کے حلوائی

پکارتے ہیں کہ لالہ دوالی ہے آئی

بتاشے لے کوئی برفی کسی نے تلوائی

کھلونے والوں کی ان سے زیادہ بن آئی

گویا انہوں کے واں راج آ گیا دوالی کا

About Nazeer Akbarabadi (نذیر اکبر آبادی)

نذیر اکبر آبادی (1735 – 1830) اردو کے عوامی شاعر تھے جو آگرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عوام کی بولی میں لکھی گئی ان کی نظمیں بنجارہ نامہ، ہولی، عید اور دیوالی کے موضوعات پر مشہور ہیں۔

Read all poetry by Nazeer Akbarabadi

More Urdu poetry by Nazeer Akbarabadi