ہیں کہتے نانک شاہ جنہیں وہ پورے ہیں آگاہ گرو
کلیاتِ نذیر
Published 14 October 2026
ہیں کہتے نانک شاہ جنہیں وہ پورے ہیں آگاہ گرو
وہ کامل رہبر جگ میں ہیں یوں روشن جیسے ناہ گرو
مقصود مراد امید سبھی بر لاتے ہیں دل خواہ گرو
نت لطف و کرم سے کرتے ہیں ہم لوگوں کا نرباہ گرو
اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو
سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو
ہر آن دلوں وچ یاں اپنے جو دھیان گرو کا دھرتے ہیں
اور سیوک ہو کر ان کے ہی ہر صورت بیچ کہاتے ہیں
گرد اپنی لطف و عنایت سے سکھ چین انہیں دکھلاتے ہیں
خوش رکھتے ہیں ہر حال انہیں سب من کا کاج بناتے ہیں
اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو
سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو
دن رات جنہوں نے یاں دل وچ ہے یاد گرو سے کام لیا
سب من کے مقصد بھر پائے خوش وقتی کا ہنگام لیا
دکھ درد میں اپنے دھیان لگا جس وقت گرو کا نام لیا
پل بیچ گرو نے آن انہیں خوش حال کیا اور تھام لیا
اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو
سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو
الطاف جنہوں پر ہیں ان کے سو خوبی حاصل ہے ان کو
ہر آن نظیرؔ اب یاں تم بھی تو بابا نانک شاہ کہو
اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو
سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو
About Nazeer Akbarabadi (نذیر اکبر آبادی)
نذیر اکبر آبادی (1735 – 1830) اردو کے عوامی شاعر تھے جو آگرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عوام کی بولی میں لکھی گئی ان کی نظمیں بنجارہ نامہ، ہولی، عید اور دیوالی کے موضوعات پر مشہور ہیں۔