Prof. Syed Mujahid Sajjad

ملنے کا ترے رکھتے ہیں ہم دھیان ادھر دیکھ

نذیر اکبر آبادی

کلیاتِ نذیر

Published 14 October 2026

ملنے کا ترے رکھتے ہیں ہم دھیان ادھر دیکھ

بھاتی ہے بہت ہم کو تری آن ادھر دیکھ

ہم چاہنے والے ہیں ترے جان ادھر دیکھ

ہولی ہے صنم ہنس کے تو اک آن ادھر دیکھ

اے رنگ بھرے نو گل خنداں ادھر دیکھ

ہم دیکھنے تیرا یہ جمال اس گھڑی اے جاں

آئے ہیں یہی کرکے خیال اس گھڑی اے جاں

تو دل میں نہ رکھ ہم سے ملال اس گھڑی اے جاں

مکھڑے پہ ترے دیکھ گلال اس گھڑی اے جاں

ہولی بھی یہی کہتی ہے اے جان ادھر دیکھ

اب زرد یہ چیرا جو ترے سر پہ جما ہے

اور اس پہ یہ طرہ جو زری کا بھی دھرا ہے

نیما بھی ترا رنگ سے کیسر کے بھرا ہے

پوشاک پہ تیری گل صد برگ فدا ہے

نرگس تری آنکھوں پہ ہے قربان ادھر دیکھ

ہولی کی طرب ہے جو ہر اک جا میں نمودار

سنتے ہیں کہیں راگ کہیں مے سے ہیں سرشار

ہے دل میں ہمیں تو تری نظروں سے سروکار

پچکاری ہمارے تو لگا یا نہ لگا یار

ہم کو تو فقط ہے یہی ارمان ادھر دیکھ

ہے دھوم سے ہولی کی کہیں شور کہیں غل

ہوتا نہیں کچھ رنگ چھڑکنے میں تأمل

دف بجتے ہیں سب ہنستے ہیں اور دھوم ہے بالکل

ہولی کی خوشی میں تو نہ کر ہم سے تغافل

اے جان ہمارا بھی کہا مان ادھر دیکھ

ہے دید کی ہر آن طلب دل کو ہمارے

جیتے ہیں فقط تیری نگاہوں کے سہارے

ہیں یاں جو کھڑے آن کے اس شوق کے مارے

ہم ایک نگہ کے ترے مشتاق ہیں پیارے

ٹک پیار کی نظروں سے مری جان ادھر دیکھ

ہر چار طرف ہولی کی دھومیں ہیں اہا ہا

دیکھو جدھر آتا ہے نظر روز تماشا

ہر آن جھمکتا ہے عجب عیش کا چرچا

ہولی کو نظیرؔ اب تو کھڑا دیکھے ہے یاں کیا

محبوب یہ آیا ارے نادان ادھر دیکھ

About Nazeer Akbarabadi (نذیر اکبر آبادی)

نذیر اکبر آبادی (1735 – 1830) اردو کے عوامی شاعر تھے جو آگرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عوام کی بولی میں لکھی گئی ان کی نظمیں بنجارہ نامہ، ہولی، عید اور دیوالی کے موضوعات پر مشہور ہیں۔

Read all poetry by Nazeer Akbarabadi

More Urdu poetry by Nazeer Akbarabadi