Prof. Syed Mujahid Sajjad

یوں لب سے اپنے نکلے ہے اب بار بار آہ

نذیر اکبر آبادی

کلیاتِ نذیر

Published 14 October 2026

یوں لب سے اپنے نکلے ہے اب بار بار آہ

کرتا ہے جس طرح کہ دل بے قرار آہ

ہم عید کے بھی دن رہے امیدوار آہ

ہو جی میں اپنے عید کی فرحت سے شاد کام

خوباں سے اپنے اپنے لیے سب نے دل کے کام

دل کھول کھول سب ملے آپس میں خاص و عام

آغوش خلق گل بدنوں سے بھرے تمام

خالی رہا پر ایک ہمارا کنار آہ

کیا پوچھتے ہو شوخ سے ملنے کی اب خبر

کتنا ہی جستجو میں پھرے ہم ادھر ادھر

لیکن ملا نہ ہم سے وہ عیار فتنہ گر

ملنا تو اک طرف ہے عزیزو کہ بھر نظر

پوشاک کی بھی ہم نے نہ دیکھی بہار آہ

رکھتے تھے ہم امید یہ دل میں کہ عید کو

کیا کیا گلے لگاویں گے دل بر کو شاد ہو

سو تو وہ آج بھی نہ ملا شوخ حیلہ جو

تھی آس عید کی سو گئی وہ بھی دوستو

اب دیکھیں کیا کرے دل امیدوار آہ

اس سنگ دل کی ہم نے غرض جب سے چاہ کی

دیکھا نہ اپنے دل کو کبھی ایک دم خوشی

کچھ اب ہی اس کی جورو و تعدی نہیں نئی

ہر عید میں ہمیں تو سدا یاس ہی رہی

کافر کبھی نہ ہم سے ہوا ہمکنار آہ

اقرار ہم سے تھا کئی دن آگے عید سے

یعنی کہ عید گاہ کو جاویں گے تم کو لے

آخر کو ہم کو چھوڑ گئے ساتھ اور کے

ہم ہاتھ ملتے رہ گئے اور راہ دیکھتے

کیا کیا غرض سہا ستم انتظار آہ

کیوں کر لگیں نہ دل میں مرے حسرتوں کے تیر

دن عید کے بھی مجھ سے ہوا وہ کنارہ گیر

اس درد کو وہ سمجھے جو ہو عشق کا اسیر

جس عید میں کہ یار سے ملنا نہ ہو نظیرؔ

اس کے اپر تو حیف ہے اور صد ہزار آہ

About Nazeer Akbarabadi (نذیر اکبر آبادی)

نذیر اکبر آبادی (1735 – 1830) اردو کے عوامی شاعر تھے جو آگرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عوام کی بولی میں لکھی گئی ان کی نظمیں بنجارہ نامہ، ہولی، عید اور دیوالی کے موضوعات پر مشہور ہیں۔

Read all poetry by Nazeer Akbarabadi

More Urdu poetry by Nazeer Akbarabadi