جانِ عالم ہو، کوئی کیونکر جُدا رکھّے تمھیں
کلیاتِ ظفر
Published 14 October 2026
جانِ عالم ہو، کوئی کیونکر جُدا رکھّے تمھیں
زندگی ہے اے بُتو تم سے، خُدا رکھّے تمھیں
خود نُما ہو تم، کوئی پردے میں کیا رکھّے تمھیں
وہ رکھے درپردہ ، جو دِل میں چُھپا رکھے تمھیں
حضرتِ دِل! کیا کروں میں خُو ہے اُلٹی آپ کی !
تم اُسی سے رہتے ہو خوش، جو خفا رکھّے تمھیں
تم تو ہو عیّار، لیکن وہ بڑا عیّار ہے
اِس بگڑنے پر جو یار اپنا بنا رکھّے تمھیں
اُس کے حُسنِ حیرت افزا کو جو دیکھو، اے ظفر !
عمر بھر آئینہ ساں وہ چشم وا رکھّے تمھیں
بہادر شاہ ظفرؔ
About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)
بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔