Prof. Syed Mujahid Sajjad

گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے

بہادر شاہ ظفر

کلیاتِ ظفر

Published 14 October 2026

گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے

کروں اس ستم کو میں کیا بیاں مرا غم سے سینہ فگار ہے

یہ رعایۂ ہند تبہ ہوئی کہوں کیا جو ان پہ جفا ہوئی

جسے دیکھا حاکم وقت نے کہا یہ بھی قابل دار ہے

یہ کسی نے ظلم بھی ہے سنا کہ دی پھانسی لوگوں کو بے گناہ

وہی کلمہ گویوں کی سمت سے ابھی دل میں ان کے بخار ہے

نہ تھا شہر دہلی یہ تھا چمن کہو کس طرح کا تھا یاں امن

جو خطاب تھا وہ مٹا دیا فقط اب تو اجڑا دیار ہے

یہی تنگ حال جو سب کا ہے یہ کرشمہ قدرت رب کا ہے

جو بہار تھی سو خزاں ہوئی جو خزاں تھی اب وہ بہار ہے

شب و روز پھول میں جو تلے کہو خار غم کو وہ کیا سہے

ملے طوق قید میں جب انہیں کہا گل کے بدلے یہ ہار ہے

سبھی جادہ ماتم سخت ہے کہو کیسی گردش بخت ہے

نہ وہ تاج ہے نہ وہ تخت ہے نہ وہ شاہ ہے نہ دیار ہے

جو سلوک کرتے تھے اور سے وہی اب ہیں کتنے ذلیل سے

وہ ہیں تنگ چرخ کے جور سے رہا تن پہ ان کے نہ تار ہے

نہ وبال تن پہ ہے سر مرا نہیں جان جانے کا ڈر ذرا

کٹے غم ہی، نکلے جو دم مرا مجھے اپنی زندگی بار ہے

کیا ہے غم ظفرؔ تجھے حشر کا جو خدا نے چاہا تو برملا

ہمیں ہے وسیلہ رسول کا وہ ہمارا حامیٔ کار ہے

About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)

بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔

Read all poetry by Bahadur Shah Zafar

More Urdu poetry by Bahadur Shah Zafar