ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے
کلیاتِ ظفر
Published 14 October 2026
ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے
پر جو سبب غم ہے وہ ہم کہہ نہیں سکتے
ہم دیکھتے ہیں تم میں خدا جانے بتو کیا
اس بھید کو اللہ کی قسم کہہ نہیں سکتے
رسوائے جہاں کرتا ہے رو رو کے ہمیں تو
ہم کچھ تجھے اے دیدۂ نم کہہ نہیں سکتے
کیا پوچھتا ہے ہم سے تو اے شوخ ستم گر
جو تو نے کئے ہم پہ ستم کہہ نہیں سکتے
ہے صبر جنہیں تلخ کلامی کو تمہاری
شربت ہی بتاتے ہیں وہ سم کہہ نہیں سکتے
جب کہتے ہیں کچھ بات رکاوٹ کی ترے ہم
رک جاتا ہے یہ سینہ میں دم کہ�� نہیں سکتے
اللہ رے ترا رعب کہ احوال دل اپنا
دے دیتے ہیں ہم کر کے رقم کہہ نہیں سکتے
طوبائے بہشتی ہے تمہارا قد رعنا
ہم کیونکر کہیں سرو ارم کہہ نہیں سکتے
جو ہم پہ شب ہجر میں اس ماہ لقا کے
گزرے ہیں ظفرؔ رنج و الم کہہ نہیں سکتے
About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)
بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔