نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا
کلیاتِ ظفر
Published 14 October 2026
نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا
مجھے تو ہوش دے اتنا رہوں میں تجھ پہ دیوانا
کتابوں میں دھرا ہے کیا بہت لکھ لکھ کے دھو ڈالیں
ہمارے دل پہ نقش کالجحر ہے تیرا فرمانا
غنیمت جان جو دم گزرے کیفیت سے گلشن میں
دئے جا ساقیٔ پیماں شکن بھر بھر کے پیمانا
نہ دیکھا وہ کہیں جلوہ جو دیکھا خانۂ دل میں
بہت مسجد میں سر مارا بہت سا ڈھونڈا بت خانا
کچھ ایسا ہو کہ جس سے منزل مقصود کو پہنچوں
طریق پارسائی ہووے یا ہو راہ رندانا
یہ ساری آمد و شد ہے نفس کی آمد و شد پر
اسی تک آنا جانا ہے نہ پھر جانا نہ پھر آنا
ظفرؔ وہ زاہد بے درد کی ہو حق سے بہتر ہے
کرے گر رند درد دل سے ہاو ہوئے مستانا
About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)
بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔