Prof. Syed Mujahid Sajjad

شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی

بہادر شاہ ظفر

کلیاتِ ظفر

Published 14 October 2026

شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی

جوڑے کی گندھاوٹ قہر خدا بالوں کی مہک پھر ویسی ہی

آنکھیں ہیں کٹورا سی وہ ستم گردن ہے صراحی دار غضب

اور اسی میں شراب سرخی پاں رکھتی ہے جھلک پھر ویسی ہی

ہر بات میں اس کی گرمی ہے ہر ناز میں اس کے شوخی ہے

قامت ہ�� قیامت چال پری چلنے میں پھڑک پھر ویسی ہی

گر رنگ بھبوکا آتش ہے اور بینی شعلۂ سرکش ہے

تو بجلی سی کوندے ہے پری عارض کی چمک پھر ویسی ہی

نوخیز کچیں دو غنچہ ہیں ہے نرم شکم اک خرمن گل

باریک کمر جو شاخ گل رکھتی ہے لچک پھر ویسی ہی

ہے ناف کوئی گرداب بلا اور گول سریں رانیں ہیں صفا

ہے ساق بلوریں شمع ضیا پاؤں کی کفک پھر ویسی ہی

محرم ہے حباب آب رواں سورج کی کرن ہے اس پہ لپٹ

جالی کی کرتی ہے وہ بلا گوٹے کی دھنک پھر ویسی ہی

وہ گائے تو آفت لائے ہے ہر تال میں لیوے جان نکال

ناچ اس کا اٹھائے سو فتنے گھنگرو کی جھنک پھر ویسی ہی

ہر بات پہ ہم سے وہ جو ظفرؔ کرتا ہے لگاوٹ مدت سے

اور اس کی چاہت رکھتے ہیں ہم آج تلک پھر ویسی ہی

About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)

بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔

Read all poetry by Bahadur Shah Zafar

More Urdu poetry by Bahadur Shah Zafar