Prof. Syed Mujahid Sajjad

یہ بزم میں نہیں ساقی شراب اڑتی ہے

بہادر شاہ ظفر

کلیاتِ ظفر

Published 14 October 2026

یہ بزم میں نہیں ساقی شراب اڑتی ہے

ہماری دولتِ عمرِ شباب اڑتی ہے

عرق فشاں گلِ رخسار آج ہیں کس کے

صبا، چمن میں جو بوئے گلاب اڑتی ہے

کرے ہے قتل ہزاروں کو تیری تیغِ نگاہ

نہ اس کا مٹتا ہے جوہر، نہ آب اڑتی ہے

تجھے سناتا ہوں میں اپنا گر فسانۂ غم

تو نیند بھی تری اے مستِ خواب، اڑتی ہے

جلایا تُو نے جگر کس کا شوخِ آتش خُو

تری جو بزم میں بوئے کباب اڑتی ہے​

رہے ہے شدتِ گریہ میں بھی مکدر دل

عجب ہے گرد یہاں تو، پر آب اڑتی ہے

پڑے نہ دامنِ قاتل پہ دیکھ اے بسمل

لہو کی چھینٹ دمِ اضطراب اڑتی ہے

اوڑا پھرے ہے تنِ زار یوں ظفرؔ میرا

ہوا پہ جوں کوئی تکّل خراب اڑتی ہے

(بہادر شاہ ظفرؔ)​

About Bahadur Shah Zafar (بہادر شاہ ظفر)

بہادر شاہ ظفر (1775 – 1862) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار اور ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں صوفیانہ اور رنجیدہ رنگ نمایاں ہے۔

Read all poetry by Bahadur Shah Zafar

More Urdu poetry by Bahadur Shah Zafar