Prof. Syed Mujahid Sajjad

فلک زمین و ملائک جناب تھی دہلی

داغ دہلوی

کلیاتِ داغ

Published 14 October 2026

فلک زمین و ملائک جناب تھی دہلی

بہشت و خلد میں بھی انتخاب تھی دہلی

جواب کاہے کو تھا لا جواب تھی دہلی

مگر خیال سے دیکھا تو خواب تھی دہلی

پڑی ہیں آنکھیں وہاں جو جگہ تھی نرگس کی

خبر نہیں کہ اسے کھا گئی نظر کس کی

فلک نے قہر و غضب تاک تاک کر ڈالا

تمام پردۂ ناموس چاک کر ڈالا

یکایک ایک جہاں کو ہلاک کر ڈالا

غرض کہ لاکھ کا گھر اس نے خاک کر ڈالا

جلیں ہیں دھوپ میں شکلیں جو ماہتاب کی تھیں

کھنچی ہیں کانٹوں پہ جو پتیاں گلاب کی تھیں

لہو کے چشمے ہیں چشم پر آب کی صورت

شکستہ کاسۂ سر ہیں حباب کی صورت

لئے ہیں گھر دل خانہ خراب کی صورت

کہاں یہ حشر میں توبہ عذاب کی صورت

زبان تیغ سے پرسش ہے دادخواہوں کی

رسن ہے طوق ہے گردن ہے بے گناہوں کی

زمیں کے حال پر اب آسمان روتا ہے

ہر اک فراق مکیں میں مکان روتا ہے

کہ طفل و عورت و پیر و جوان روتا ہے

غرض یہاں کے لئے اک جہان روتا ہے

جو کہیے جوشش طوفاں کہی نہیں جاتی

یہاں تو نوح کی کشتی بھی ڈوب ہی جاتی

برنگ بوئے گل اہل چمن چمن سے چلے

غریب چھوڑ کے اپنا وطن وطن سے چلے

نہ پوچھ زندوں کو بے چارے کس چلن سے چلے

قیامت آئی کہ مردے نکل کفن سے چلے

مقام امن جو ڈھونڈا تو راہ بھی نہ ملی

یہ قہر تھا کہ خدا کی پناہ بھی نہ ملی

جگہ جگہ تھے زمیندار دار کی صورت

چڑھے ہی آتے تھے سر پر بخار کی صورت

بلا سے کم نہ تھی اک اک گنوار کی صورت

چھپی نہ ان سے پر اہل دیار کی صورت

کسی جگہ جو کوئی ہو کے بے قرار آیا

تو اہل قریہ یہ بولے کہ لو شکار آیا

زبان بدلیں تو صورت بدل نہیں آتی

ملیں جو خاک بھی منہ پر تو مل نہیں آتی

کسی طرح کسی پہلو سے کل نہیں آتی

پکارتے ہیں اجل کو اجل نہیں آتی

جو سر کو پھوڑیں تو پتھر پرے سرکتے ہیں

جو لوٹیں کانٹوں پہ کانٹے الگ کھسکتے ہیں

بنا ہے خال سیہ رنگ مہ جمالوں کا

دوتا ہوا ہے قد راست نونہالوں کا

جو زور آہوں کا لب پر تو شور نالوں کا

عجیب حال دگرگوں ہے دلی والوں کا

کوئی مراد جو چاہی حصول بھی نہ ہوئی

دعائے مرگ جو مانگی قبول بھی نہ ہوئی

پئے محاسبہ پرسش ہے نکتہ دانوں کی

تلاش بہر سیاست ہے خوش زبانوں کی

یہ نوکری ہے تو اب یہ ہے نوجوانوں کی

کہ حکم عام ہے بھرتی ہے قید خانوں کی

یہ اہل سیف و قلم کا ہو جب کہ حال تباہ

کمال کیوں نہ پھرے در بدر کمال تباہ

غضب ہے بخت بد ایسے ہمارے ہو جائیں

کہ ہیں جو لعل و گہر سنگ پارے ہو جائیں

جو دانے چاہیں تو خرمن شرارے ہو جائیں

جو پانی مانگیں تو دریا کنارے ہو جائیں

پئیں جو آب بقا بھی تو زہر ہو جائے

جو چاہیں رحمت باری تو قہر ہو جائے

About Dagh Dehlvi (داغ دہلوی)

داغ دہلوی (1831 – 1905) اردو غزل کے ممتاز شاعر تھے۔ اپنی سادہ اور دلکش زبان اور شاگردوں کی تربیت کے لیے مشہور ہوئے۔

Read all poetry by Dagh Dehlvi

More Urdu poetry by Dagh Dehlvi