داغ دہلوی
Dagh Dehlvi: Urdu poetry
داغ دہلوی (1831 – 1905) اردو غزل کے ممتاز شاعر تھے۔ اپنی سادہ اور دلکش زبان اور شاگردوں کی تربیت کے لیے مشہور ہوئے۔
51 verses on this site
Nazm
فلک زمین و ملائک جناب تھی دہلی
Ghazal
آپ کا اعتبار کون کرے
Ghazal
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
Ghazal
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
Ghazal
محبت میں کرے کیا کچھ کسی سے ہو نہیں سکتا
Ghazal
یہ قول کسی کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
Ghazal
یا رب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا
Ghazal
یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا
Ghazal
جہاں تیرے جلوہ سے معمور نکلا
Ghazal
ستم ہے کرنا جفا ہے کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا
Ghazal
تو جو اللہ کا محبوب ہوا خوب ہوا
Ghazal
دیکھو جو مسکراکے تم آغوش نقش پا
Ghazal
اب دل ہے مقام بے کسی کا
Ghazal
بنتی ہے بری کبھی جو دل پر
Ghazal
سبب کھلا یہ ہمیں اُن کے منہ چھپانے کا
Ghazal
زباں ہلاؤ تو ہو جائے فیصلہ دل کا
Ghazal
دل کے نالوں سے جگر دکھنے لگ
Ghazal
تم کو کیا ہر کسی سے ملنا تھا
Ghazal
تمھارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
Ghazal
ہماری آنکھوں نے بھی تماشا عجب عجب انتخاب دیکھا
Ghazal
کیا ذوق ہے کہ شوق ہے سو مرتبہ دیکھوں
Ghazal
خواب میں بھی نہ کسی شب وہ ستم گر آیا
Ghazal
آئینہ تصویر کا تیرے نہ لے کر رکھ دیا
Ghazal
غضب کیا تیرے وعدے کا اعتبار کیا
Ghazal
تو ہے مشہور دل آزار یہ کیا
Ghazal
کس نے کہا کہ داغ وفا دار مر گیا
Ghazal
کعبے کی سمت جا کے مرا دھیان پھر گیا
Ghazal
دل میں ہے غم و رنج و الم، حرص و ہوا بند
Ghazal
تو نے کی غیر سے کل میری بُرائی کیوں کر
Ghazal
مانندِ گل ہیں میرے جگر میں چراغِ داغ
Ghazal
مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپ
Ghazal
حضرت دل آپ ہیں جس دھیان میں
Ghazal
کیوں چراتے ہو دیکھ کر آنکھیں
Ghazal
ہائے دو دل جو کبھی مل کے جدا ہوتے ہیں
Ghazal
بت کو بت اور خدا کو
Ghazal
بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے، تَن کے بیٹھے ہیں
Ghazal
دنیا میں آدمی کو مصیبت کہاں نہیں
Ghazal
حسن کی تم پر حکومت ہو گئی
Ghazal
ایک تو حسن بلا اس پہ بناوٹ آفت
Ghazal
گر ہو سلوک کرنا انسان کر کے بھولے
Ghazal
کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
Ghazal
ناروا کہیے ناسزا کہیے
Ghazal
وہ زمانہ نظر نہیں آتا
Ghazal
ساز، یہ کینہ ساز کیا جانیں
Ghazal
سبق ایسا پڑھا دیا تو نے
Ghazal
لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
Ghazal
اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
Ghazal
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
Ghazal
عجب اپنا حال ہوتا، جو وصال یار ہوتا
Ghazal
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
Ghazal
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں