تم کو کیا ہر کسی سے ملنا تھا
کلیاتِ داغ
Published 14 October 2026
تم کو کیا ہر کسی سے ملنا تھا
دل ملا کر مجھی سے ملنا تھا
پوچھتے کیا ہو کیوں لگائی دیر
اک نئے آدمی سے ملنا تھا
مل کے غیروں سے بزم میں یہ کہا
مجھ کو آ کر سبھی سے ملنا تھا
عید کو بھی خفا خفا ہی رہے
آج کے دن خوشی سے ملنا تھا
آپ کا مجھ سے جی نہیںملتا
اس محبت پہ جی سے ملنا تھا
تم تو اُکھڑے رہے تمہیں اے داغ
ہر طرح مدّعی سے ملنا تھا
داغ دہلوی
About Dagh Dehlvi (داغ دہلوی)
داغ دہلوی (1831 – 1905) اردو غزل کے ممتاز شاعر تھے۔ اپنی سادہ اور دلکش زبان اور شاگردوں کی تربیت کے لیے مشہور ہوئے۔
More Urdu poetry by Dagh Dehlvi
- فلک زمین و ملائک جناب تھی دہلی (Nazm)
- آپ کا اعتبار کون کرے (Ghazal)
- غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا (Ghazal)
- تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا (Ghazal)