Prof. Syed Mujahid Sajjad

تو نے کی غیر سے کل میری بُرائی کیوں کر

داغ دہلوی

کلیاتِ داغ

Published 14 October 2026

تو نے کی غیر سے کل میری بُرائی کیوں کر

گر نہ تھی دل میں تو لب پر تیرے آئی کیوں کر

نہ کہوں گا نہ کہوں گا نہ کہوں گا ہر گز

جا کے اُس بزم میں شامت میری آئی کیوں ‌کر

کھُل گئی بات جب اُن کی تو وہ یہ پوچھتے ہیں

منہ سے نکلی ہوئی ہوتی ہےَپرائی کیوں کر

داد خواہوں سے وہ کہتے ہیں‌کہو ہم بھی تو سنیں

دو گے تم حشر میں سب مل کے دُہائی کیوں کر

وہ یہاں آئیں وہاں‌غیر کا گھر ہو برباد

اس طرح سے ہو صفائی میں‌صفائی کیوں کر

آئینہ دیکھ کے وہ کہنے لگے آپ ہی آپ

ایسے اچھے کی کرے کوئی بُرائی کیوں کر

اُس نے صدقے میں‌کیئے آج ہزاروں آزاد

دیکھئے ہوتی ہے عاشق کی رہائی کیوں کر

داغ کو مہر کہا اشک کو دریا تم نے

اور پھر کرتے ہیں چھوٹوں‌ کی برائی کیوں کر

داغ کل تک تو دعا آپ کی مقبول نہ تھی

آج منہ مانگی مراد آپ نے پائی کیوں‌ کر

داغ دہلوی

About Dagh Dehlvi (داغ دہلوی)

داغ دہلوی (1831 – 1905) اردو غزل کے ممتاز شاعر تھے۔ اپنی سادہ اور دلکش زبان اور شاگردوں کی تربیت کے لیے مشہور ہوئے۔

Read all poetry by Dagh Dehlvi

More Urdu poetry by Dagh Dehlvi