Prof. Syed Mujahid Sajjad

کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے

داغ دہلوی

کلیاتِ داغ

Published 14 October 2026

کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے

مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے

سن کر مرا فسانہ انہیں لطف آگیا

سنتا ہوں اب کہ روز طلب قصہ خواں کی ہے

پیغامبر کی بات پر آپس میں رنج کیا

میری زباں کی ہے نہ تمہاری زباں کی ہے

کچھ تازگی ہو لذتِ آزار کے لئے

ہر دم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے

جانبر بھی ہو گئے ہیں بہت مجھ سے نیم جان

کیا غم ہے اے طبیب جو پوری وہاں کی ہے

حسرت برس رہی ہے ہمارے مزار پر

کہتے ہیں سب یہ قبر کسی نوجواں کی ہے

وقتِ خرامِ ناز دکھا دو جدا جدا

یہ چال حشر کی یہ روش آسماں کی ہے

فرصت کہاں کہ ہم سے کسی وقت تو ملے

دن غیر کا ہے رات ترے پاسباں کی ہے

قاصد کی گفتگو سے تسلی ہو کس طرح

چھپتی نہیں وہ بات جو تیری زباں کی ہے

جورِ رقیب و ظلمِ فلک کا نہیں خیال

تشویش ایک خاطرِ نا مہرباں کی ہے

سن کر مرا فسانہء غم اس نے یہ کہا

ہو جائے جھوٹ سچ یہی خوبی بیاں کی ہے

دامن سنبھال باندھ کمر آستیں چڑھا

خنجر نکال دل میں اگر امتحاں کی ہے

ہر ہر نفس میں دل سے نکلنے لگا غبار

کیا جانے گردِ راہ یہ کس کارواں کی ہے

کیونکر نہ آتے خلد سے آدم زمین پر

موزوں وہیں وہ خوب ہے جو سنتے جہاں کی ہے

تقدیر سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ عشق میں

تدبیر کوئی بھی ستمِ ناگہاں کی ہے

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

داغ دہلوی

About Dagh Dehlvi (داغ دہلوی)

داغ دہلوی (1831 – 1905) اردو غزل کے ممتاز شاعر تھے۔ اپنی سادہ اور دلکش زبان اور شاگردوں کی تربیت کے لیے مشہور ہوئے۔

Read all poetry by Dagh Dehlvi

More Urdu poetry by Dagh Dehlvi